یومِ عاشورملتان کا شمار

0

ملتان کا شمار پاکستان کے اُن شہروں میں ہوتا ہے جہاں یومِ عاشور کے موقع پر ایک بڑی تعداد میں ماتمی جلوس نِکالے جاتے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے ذوالجناح، علم اور تعزیے کے لگ بھگ چارسودس ماتمی جلوس نکلتے ہیں ۔ لیکن اِن میں بڑی تعداد تعزیے کےجلوسوں کی ہوتی ہے ۔

 

تا ہم تین سو سے اوُپر نکالے جانے والے تعزیوں میں نمایاں مقام اندرونِ شہر کے پاک گیٹ سے برآمد ہونے والے قدیمی اُستاد اور شاگرد کے تعزیوں کو ہی حاصل ہے ۔اِن میں سے اُستاد کا تعزیہ ایک سو اسی سال پُرانا بتایا جاتا ہے ۔ شاگرد کا تعزیہ بھی اِتنا ہی پرانا تھا لیکن یہ ایک دفعہ گِر کر اور دوسری دفعہ جل کر مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا ۔

 

روایت کے مطابق لکڑی پر کندہ کاری اور چوب کاری کے ماہر اُستاد پیر بخش نے حضرت امام حسین سے عقیدت کے اظہار کے لیے اٹھارہ سو پچیس میں یہ شاندار تعزیہ تیار کیا تھا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اُستاد کو اِس کی بناوٹ اور سجاوٹ میں پانچ سال کا عرصہ لگا تھا جبکہ بعض لوگ یہ مُدت سولہ سال بتاتے ہیں ۔

 

شاگرد کا تعزیہ تیار کرنے والے ہنرمند کے بارے معلومات کم ہی دستیاب ہیں ۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے اُن کا نام اِلہی بخش تھا اور وہ اُستاد پیر بخش کے شاگردوں کی اُس ٹیم کا حصہ تھے جِس نے اُستاد کا تعزیہ تیار کیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اِلہی بخش دِن میں اُستاد کے ساتھ کام کرتے اور رات میں ایک خفیہ جگہ پر ویسا ہی تعزیہ بنانے میں جُٹے رہتے ۔

 

 

اُستاد کے تعزیے کے کچھ عرصہ بعد ہی شاگرد کا تعزیہ بھی تیار تھا اور یوں ایک لازوال روایت کا آغاز ہوتا ہے جو کم و بیش دو صدیاں گذرنے کے بعد بھی قائم ہے ۔ ملتان میں آج بھی تعزیوں کے مرکزی جلوس کی قیادت اُستاد کا لافانی تعزیہ کرتا ہے جِس کے پیچھے شاگرد کا تعزیہ اور پھر دوسرے تعزیے ہوتے ہیں ۔

 

 

اُستاد کا تعزیہ مکمل طور پر ہاتھ سے بنا ہوا ہے اور اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ پچیس فُٹ بلند اور آٹھ فُٹ چوڑے اِس تعزیے کی چھ منزلیں ہیں اور ہر منزل کئی چھوٹے بڑے ساگوان کی لکڑی کے ایسے ٹکڑوں سے بنی ہے جو مِنی ایچر محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔اُستاد کے تعزیے کی جُڑت میں کوئی میخ استعمال نہیں ہوتی بلکے مختلف حصوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرکے فن کا یہ اعلیٰ نمونہ مکمل کیا جاتا ہے ۔تاہم مرمت کے لیے ماہر کاریگروں کی عدم دستیابی کے باعث استاد کا تعزیہ شکشتِ و ریخت کا شکار ہے ۔

 

 

شاگرد کے تعزیے کی اونچائی بھی پچیس فُٹ ہے جبکہ چوڑائی ساڑھے آٹھ فُٹ ہے ۔لیکن شاگرد کا موجودہ تعزیہ مشین کی مدد سے تیار کردہ ہے جو انُیس سو چوالیس میں اُس وقت بنایا گیا جب شاگرد کے تعزّیے کو پراسرار طور پر آگ لگی اور وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ۔اِس کی بھی چھ منزلیں ہیں اور اُستاد کے تعزیے کی طرز پر یہ بھی لاتعداد محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہے ۔

 

 

اُستاد کے تعزیے کی دیکھ بھال آجکل خلیفہ الطاف حُسین جبکہ شاگرد کے تعزیے کی حفاظت غلام محبوب کے ذمّہ ہے ۔ یہ رضا کارانہ ذمّہ داری دونوں حضرات وراثتی طور پر نبھا رہے ہیں اور اِن کے بعد اِن کی اولاد کو منتقل ہو جاۓ گی ۔ اِن سے پہلے اِن کے آباؤاجداد یہ فریضہ سر انجام دیتے رہے ہیں ۔دونوں خاندانوں کا تعلق سُنی فرقے سے ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.