غریب ہیلمٹ نہیں خرید سکتے،چھوٹی سی نصیحت: تحریر عرفان اشرف

0

ایک چھوٹی سی چڑیا جب اڑتے ہوئے جہاز سے ٹکراتی ہے اسکا حلیہ بگاڑ دیتی ہے ،اربوں روپئے کا جنگی جہاز ایک کبوتر کے ٹکرانے سے لوہے اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے موٹر سائیکل ایک جان لیوا سواری ہے دنیا میں جتنے بندے موٹر سائیکل نے کھائے اور کسی چیز نے اتنے قتل نہیں کیئے پاکستان میں اوسط دس بندے روزانہ موٹر سائیکل پر مرتے ہیں اور موٹر سائیکل کو بچاتے ہوئے کئی حادثات ہو چکے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اس کو بین کر دیا جاتا۔ کیونکہ اسلام کا قانون ہے۔

 

جس چیز سے ایک آدمی کے بھی جان سے جانے کا خدشہ ہو وہ حرام ہےخون اسی لیئے حرام ہے کہ اس میں بیماریاں ہوتی ہیں ،شراب اسی وجہ سے خنزیر کا گوشت اسی وجہ سے حرام ہے کہ اس میں انسانوں کیلئے نقصان ہے انگریز کھاتے ہیں ،لیکن خالق کا حکم ہے وہ حرام ہے تیز رفتار موٹرسائیکل جب کسی چیز سے ٹکراتا ہے ،مثلا ایک موٹر سائیکل 60کلومیٹر کی رفتار سے جارہا ہے اس کے اوپر بیٹھا بندہ بظاہر ساکن ہے لیکن ارد گرد کے ماحول کے حساب سے اس بندے کی سپیڈ ساٹھ کلومیٹر ہوتی ہے اچانک روکاوٹ حادثے رزسٹنس اور بریک کی وجہ سے بندہ ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے بندہ موٹرسائیکل سے آگے نکل جاتا ہے

 

جب بھی کوئی چیز اڑتی ہے فلائی کرتی ہے اسکا بھارا حصہ پیچھے رہ جاتا ہے انسانی جسم کا بھارا حصہ چھاتی سے نیچے ہے ادھر ہڈی بھی وزنی ہے اور گوشت اور انتڑیاں بھی وزنی لہذا حادثے کی صورت میں سر خود بخود آگے ہو جاتا ہےاور سب سے پہلے سر ٹکراتا ہے سر پر چوٹ لگتے ہیں انسان بے ہوش ہوتا ہے یا ادھر ہی مر جاتا ہے پاکستان کے نوے فیصد ڈاکٹروں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ہیڈ انجری میں میڈیسن کونسی دینی ہے اور عموما غلط انجیکشن ہیڈ انجری میں سیدھا موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہےٹریفک حادثے میں چونکہ پولیس کیس ہے اور پولیس مریض کو لانے والے کو پکڑتی ہے اسی لیئے ایسی صورت میں کوئی قریب ہی نہیں جاتا اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے بندہ مر جاتا ہے جو لوگ ہیلمٹ غریب ہونے کی وجہ نہیں خرید سکتے وہ پچاس ہزار کا موٹر سائیکل اسکی مرمت کیسے کرواتے ہیں

 

پنجابی میں کہتے ہیں کہ من حرام زادہ تے حجتاں ڈھیرقوم دو ہزار جرمانہ نہیں دے سکتی ظلم ہے ہاں مگر کفن دفن تنبو قناتیں ،کھانا وغیرہ سات جمعراتیں چالیسواں آسانی سے کر سکتی ہے جنکے مر چکے ہیں ان سے پوچھیں کیا حالت ہوتی ہے دس بارہ سال کے لڑکے موٹر سائیکل ایسے چلاتے ہیں جیسے ایف سولہ ہو دوسرا ایک المیہ ہے کسی پاکستانی کے قریب سے دوسرا گزر جائے یہ سمجھتے ہیں ہماری عزت لے گیا ،وہ کیوں نکلا مجھ سے آگے ،پھر اس سے آگے نکلنے کے چکر میں بہت آگے نکل جاتے ہیں جان بہت قیمتی ہے ،ہیلمٹ واحد سیفٹی ہے ،سر بچ جائے بندہ بچ جاتا ہے ہڈیاں جڑ جاتی ہیں دوسرا سر نہیں ملتا۔ اس لیئے بجائے اپنا سر توڑنے کے ہزار کا ہیلمٹ توڑیں اور پاکستانی ڈاکٹروں سے بچیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.